قاسم اپنے خواب کیوں شیئر کرتا ہے؟

Muhammad Qasim's Dreams in Urdu Language
Post Reply
User avatar
Mansoor.Ali
Posts: 79
Joined: Sun Dec 31, 2017 7:02 pm

قاسم اپنے خواب کیوں شیئر کرتا ہے؟

Post by Mansoor.Ali » Sat Dec 08, 2018 11:39 pm

اپریل ۲، ۲۰۱۴

اِس خواب میں حضرت محمدﷺ مجھ سے فون کی طرح کے ایک آلے سے بات کرتے ہیں۔ آپﷺ آواز سے عمر رسیدہ، بہت تھکے ہوئے اور پریشان لگتے ہیں۔ آپﷺ مجھے کہتے ہیں ’’قاسم! میں نے بہت سے لوگوں کو آواز دی مگر کسی نے میری آواز نہیں سنی۔ میں بہت تھک چکا ہوں، اب مجھ میں اور ہمت نہیں ہے‘‘۔ تو میں کہتا ہوں ’’آپ حکم کریں، میں حاضر ہوں‘‘۔ حضرت محمدﷺ مجھے کہتے ہیں ’’قاسم! میں تم سےملنا چاہتا ہوں ، ایک بہت ہی ضروری کام ہے۔ کیا تم میرے پاس آ سکتے ہو؟‘‘ تو میں کہتا ہوں ’’کیوں نہیں! مجھے اپنا پاسپورٹ بنوانا پڑے گا اور ویزا لگوانا پڑے گا۔ تو آپﷺ کہتے ہیں ’’ٹھیک ہے، مگر یہ سب جلدی سے کرو‘‘۔

میں ایک ٹریول ایجنٹ کے پاس جاتا ہوں، تو وہ مجھے بتاتا ہے کہ اِس کام میں ۳ سے ۴ مہینے لگ جائیں گے۔ یہ سن کر میں دل میں کہتا ہوں ’’اِس طرح تو کافی دیر ہوجائے گی۔ حضرت محمدﷺ نے تو مجھے جلدی آنے کا کہا تھا‘‘۔ میں واپس آتا ہوں اور آپﷺ سے کہتا ہوں کہ مجھے کم از کم ۳ سے ۴ مہینے لگ جائیں گے۔ یہ سُن کر آپﷺ افسردہ ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں ’’تم وہیں رکو ،میں تمھارے پاس آتا ہوں‘‘۔ میں کہتا ہوں ’’آپ تھوڑا صبر کریں، میں آ جاؤں گا۔ آپ بہت تھکے ہوئے بھی ہیں اور عمر رسیدہ بھی ہیں‘‘۔ تو آپﷺ کہتے ہیں ’’نہیں بیٹا، کام بہت ضروری ہے، کہیں دیر نہ ہو جائے۔ میں نے اِس سے پہلے بھی اپنی امت کے لیے بہت تکلیفیں برداشت کی ہیں، اب بھی کر لوں گا‘‘۔ تو مجھے بہت افسوس ہوتا ہے اور میں کہتا ہوں ’’ٹھیک ہے، آپ ہی آ جائیں، اللہﷻ آپ کی مدد کرے اور آپ کےلیے آسانی پیدا کرے‘‘۔ ساتھ ہی میں اللہﷻ سے دعا مانگتا ہوں ’’یا اللہ،حضرت محمدﷺ کی مدد فرما اور اُن کا یہ سفر آسان کر دے‘‘۔

پِھرمیں جلدی سے ایئر پورٹ پہنچ جاتا ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو حضرت محمدﷺ پہنچ جائیں اور میرا انتظار کرتے رہیں۔ کچھ ہی دیر بعدآپﷺ ایئر پورٹ سے باہر آتے ہیں۔ میں انھیں دیکھ کربہت خوش ہو جاتا ہوں اور بھاگ کر اُن کے پاس جاتا ہوں۔ آپﷺ بھی مجھے دیکھ کربہت خوش ہو جاتے ہیں۔ میں آپﷺ سے کہتا ہوں ’’اللہ آپ کو یہاں تک لے ہی آیا‘‘۔ تو حضرت محمدﷺ فرماتے ہیں ’’ہاں، بیشک اللہ بہت مہربان ہے‘‘۔ میں انھیں اپنی گاڑی میں بٹھا کر اپنے گھر لے آتا ہوں۔ میرا کرائے کا گھر ہوتا ہے اور اُس میں روشنی بھی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔

حضرت محمدﷺ جب گھر آتے ہیں تو مجھے اپنے پاس بٹھا کر کہتے ہیں ’’قاسم! میں ایک بہت ضروری کام سے آیا ہوں۔ میری کوئی نہیں سن رہا۔ دیکھو، اگر میرے اسلام کا یہی حال رہا تو مجھے ڈر ہے کہ کہیں اسلام ختم ہی نہ ہو جائے۔ سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہیں۔ کسی کو میری اور میرے اسلام کی فکر نہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ تم میرا یہ کام کرو۔ تمہیں اللہﷻ نے جو خواب دکھائے ہیں وہ سب کو بیان کرو اورمیرا پیغام بھی لوگوں تک پہنچاؤ۔ یہ دیکھو، میں تمھارے لیے ایک آلہ لایا ہوں، اِس کے ذریعے سے تم اپنے خواب اور میرا پیغام سب تک پہنچاؤ۔ اور مسلمانوں سے کہو کہ محمدﷺ نے پیغام دیا ہے کہ قاسم جیسا بھی ہے، آخر وہ میرا ہی امّتی ہے۔ اور میں اپنے کسی امّتی میں کوئی فرق نہیں کرتا۔ اسلام پاکستان سے سر بلند ہوگا۔ لوگوں کو چاہیئے کہ اِس بات پرجھگڑا نہ کریں اور گروہوں میں نہ تقسیم ہو جائیں۔ قیامت کے قریب اسلام نے اللہﷻ کی رحمت سے کہیں نہ کہیں سے تو سربلند ہونا ہی ہے۔ اسلام کہیں سے بھی سربلند ہو، اچھی بات تو یہ ہے کہ سب مسلمان پِھر سے ایک ہو جائیں گے اوراپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر لیں گے۔ اسلام پِھر سے دنیا میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جائے گا، تو اِس میں بُری بات کیا ہے؟‘‘

یہ سن کر میں حضرت محمدﷺ سے کہتا ہوں ’’چاہے کتنا ہی مشکل اور خطرناک کیوں نہ ہو، میں آپ کا یہ کام اللہﷻ کی مدد سے ضرور کروں گا۔ یہ سن کر آپﷺ کی پُرنم آنکھوں میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ اور مجھے زور سے اپنے سینے سے لگا کر کہتے ہیں ’’مجھے اللہﷻ سے امید تھی کہ تم میری اِس بات سے انکار نہیں کرو گے‘‘۔ پھر حضرت محمدﷺ ایک لمبا سانس لے کر کہتے ہیں ’’یا اللہ تیرا شکر ہے‘‘۔

میں آپﷺ سے کہتا ہوں ’’انشاءاللہ، آپ بے فکر رہیں اور آرام کریں۔ اب یہ کام میرا ہے اور میں اِس کو اللہﷻ کی مدد سے ضرور کروں گا‘‘۔ اِس کے بعد حضرت محمدﷺ میری کامیابی اور مدد کے لیے اللہﷻ سے دعائیں کرنے لگتے ہیں۔ پھر میں دل میں کہتا ہوں کہ میں نے آپﷺ سے کہہ تو دیا ہے، مگراب اللہﷻ ہی میری مدد کرے۔ اللہﷻ کی مدد کے بغیر یہ کام میں کیسے کر سکتا ہوں؟

خیرمیں اللہﷻ کا نام لیتا ہوں اور اپنا کام شروع کرتا ہوں۔ حضرت محمدﷺ کے دیئے گئے صندوق کوکھولتا ہوں تو اُ س میں ایک کمپیوٹر کی طرح کا آلہ ہوتا ہے اور ایک نقشہ ہوتا ہے۔ میں اِس آلے کے ذریعے سے اپنے خواب اور حضرت محمدﷺ کا پیغام لوگوں کو بھیجتا ہوں۔ اس کے بعد کچھ بڑے لوگوں کے پاس جاتا ہوں اور انھیں بتاتا ہوں کہ حضرت محمدﷺ نے مجھے یہ پیغام دیا ہے۔ وہ لوگ میری بات سن کر ہنس پڑتے ہیں اور کہتے ہیں ’’قاسم! اپنا کام کرو اور ہمارا وقت ضائع مت کرو‘‘۔ یہ سن کرمیں تھوڑا مایوس ہو جاتا ہوں لیکن پِھر میں کہتا ہوں ’’نہیں، میں نے تو حضرت محمدﷺ سے وعدہ کیا تھا کہ میں آپ کا یہ کام ضرور کروں گا‘‘۔ پِھر میں اُس نقشے کو کھول کر دیکھتا ہوں کہ یہ کس جگہ کا نقشہ ہے۔ تو اُس میں ایک خُراسان کا نقشہ ہوتا ہے اور مشرق میں خُراسان سے پہلے کی جو سرزمین ہوتی ہے، اُس پہ حضرت محمدﷺ نے پاکستان سے ملتا جلتا ایک نقشہ بنایا ہوتا ہے، جس پرآپﷺ نے لکھا ہوتا ہے ’’اگر تم قیامت کے قریب خُراسان سے پہلے کی سر زمین سے حقیقی اسلام کو پھیلتے ہوئے دیکھو تو اُس میں شامل ہو جاؤ، خواہ تمہیں پہاڑوں سے ننگے پاؤں ہی کیوں نہ چل کر آنا پڑے‘‘۔

پِھرایک آدمی کا پیغام آتا ہے اور وہ مجھ سے تفصیل سے بات کرتا ہے، مگر اُس کو میری باتیں ٹھیک سے سمجھ نہیں آ رہی ہوتی۔ تو میں اُس کو کہتا ہوں ’’تم میرے گھر آ جاؤ، میں تمہیں نقشہ دکھاؤں گا، اُسےخود دیکھ لینا‘‘۔ پِھر وہ میرے گھرآتا ہے اور نقشہ دیکھ کر کہتا ہے ’’ہاں میں نے بھی حدیث میں ایسا ہی کچھ پڑھا ہے کہ یہ خُراسان کی سرزمین نہیں ہے بلکہ خُراسان سے پہلے کی سرزمین ہے۔ پِھر وہ کہتا ہے ’’اب میں سمجھ گیا کہ مجھے کیا کرنا ہے۔ اگر یہ سر زمین ہے تو پِھر کالے جھنڈوں والی فوج پاکستان کی فوج ہے‘‘۔ تو میں کہتا ہوں ’’پاکستان کی فوج دنیا کی بہترین فوج ہے اور دہشتگردوں کو چُن چُن کرمار رہی ہے‘‘۔ اِس کے جواب میں وہ آدمی کہتا ہے ’’ہمیں پاکستان کی فوج تک حضرت محمدﷺ کا پیغام پہنچانا ہو گا۔ ہمیں اسلام کے اِس آخری قلعے کو بچانا ہو گا‘‘۔ تو میں کہتا ہوں ’’ہمیں جلدی کرنا ہو گی اور آپﷺ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ جو میرا پیغام پڑھے وہ اِسے آگے پہنچا دے‘‘۔

اِس طرح اور لوگ بھی شامل ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور پِھر ہم ایک گروپ کی شکل میں کام کرتے ہیں اور اِن خوابوں اور پیغامات کو بڑی تیزی سے پھیلاتے ہیں۔ اِس کے بعد یہ خواب اور حضرت محمدﷺ کا پیغام پوری دنیا میں اللہﷻ کی مدد سے پھیل جاتا ہے۔ اور پِھر وہی بڑے لوگ کہتے ہیں ’’قاسم! کاش ہم نے تیری بات کا پہلے یقین کیا ہوتا۔ اُ س کے بعد میں اپنے آپ سے کہتا ہوں ’’اگر اللہﷻ مہربان نہ ہوتا اور اللہﷻ کی مدد نہ ہوتی تو یہ کام کبھی نہ ہوتا‘‘۔
~«Just Need Your Prayers»~

Post Reply