دنیا کا آخری دن اور اللہﷻ کا قیامت کے وقت میں توسیع

Muhammad Qasim's Dreams in Urdu Language
Post Reply
User avatar
Mansoor.Ali
Posts: 79
Joined: Sun Dec 31, 2017 7:02 pm

دنیا کا آخری دن اور اللہﷻ کا قیامت کے وقت میں توسیع

Post by Mansoor.Ali » Sun Dec 23, 2018 10:26 pm

۱۹۹۸

مجھے اِس طرح کے خواب بہت زیادہ آتے ہیں کہ دنیا کا آخری دن ہوتا ہے اور مجھے اپنے کام اِس آخری دن میں نمٹانے ہوتے ہیں۔ مگر ہر خواب میں مجھے کوئی نہ کوئی مسئلہ پیش آ جاتا ہے یا میں مشکلات میں پھنس جاتا ہوں اور اپنے کام مکمل نہیں کر پاتا۔ مگراللہﷻ قیامت قائم نہیں کرتا اور اپنی رحمت سے مجھے ایک اور دن دے دیتا ہے۔ اللہﷻ فرماتا ہے ’’قاسم! میں نے قیامت کا وقت بڑھا دیا ہے، جب تک تم اپنے سارے کام نہیں کر لیتے، میں قیامت نہیں قائم کروں گا‘‘۔ اِسی طرح کا ایک خواب کچھ یوں ہے۔

یہ خواب مجھے ۱۹۹۸ میں آیا تھا۔ اِس خواب میں دوپہر کےتقریباً ۲ بج رہے ہوتے ہیں۔ میں ایک جگہ اللہﷻ سے باتیں کر رہا ہوتا ہوں۔ اللہﷻ اپنے عرش پہ جلوہ افروز ہوتا ہے اور مجھے فرماتا ہے ’’قاسم! تم نے جو کام کرنے ہیں وہ شام ۶ بجے سے پہلے کر لینا، کیونکہ میں نے شام ۶ بجے قیامت قائم کرنی ہے‘‘۔ تو میں اللہﷻ سے کہتا ہوں ’’اچھا ٹھیک ہے‘‘۔ اور پھر میں وہاں سے چل پڑتا ہوں تا کہ جلدی سے اپنے سارے کام کر لوں کیونکہ بہت تھوڑا وقت باقی رہ گیا ہے۔

جب میں وہاں سے گھر کی طرف چلتا ہوں تو راستے میں مجھے ایک لڑکی نظر آتی ہے۔ وہ لڑکی مجھے اچھی لگتی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اُس سے شادی کر لوں اور اپنے ساتھ گھر لے جاؤں۔ میں اُس لڑکی کے پیچھے چل پڑتا ہوں اور یہ بھول جاتا ہوں کہ شام ۶ بجے اللہﷻ نے قیامت قائم کرنی ہے اور میں نے اپنے سارے کام اِس سے پہلے مکمل کرنے ہیں۔ میں اُس لڑکی کے پیچھے پیچھے چلتا ہوں تاکہ اُس تک پہنچ جاؤں۔ مگر ہرطرف افراتفری ہوتی ہے، رش ہوتا ہے، رکاوٹیں ہوتی ہیں اور مجھ سے تیزی سے چلا بھی نہیں جاتا۔ وہ لڑکی بہت تیز چل رہی ہوتی ہے اور مجھ سے اُس رفتار سے چلا نہیں جاتا۔ پِھر وہ لڑکی تنگ گلیوں میں سے گزرنا شروع ہو جاتی ہے۔ میں اپنی پوری کوشش کرتا ہوں کہ اُس لڑکی تک پہنچ جاؤں، مگر وہ لڑکی میری نظروں سے اوجَھل ہو جاتی ہے اور میں اُسے گلیوں میں ڈھونڈتا رہ جاتا ہوں۔

جب مجھے یقین ہو جاتا ہے کہ وہ لڑکی میرے ہاتھوں سے نکل چکی ہے، تب مجھے ہوش آتا ہے اور میں گھڑی پہ نظر ڈالتا ہوں تو رات کے ۸ بج رہے ہوتے ہیں۔ پھر تو میرے پاؤں سے زمین نکل جاتی ہے، میں اپنا سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہوں کہ یہ میرے ساتھ کیا ہوا؟ اللہﷻ نے تو مجھے صاف کہا تھا کہ شام ۶ بجے سے پہلے اپنے سارے کام کر لینا، اب تو ۸ بج رہے ہیں۔ نہ مجھے وہ لڑکی ملی اور نہ میں اپنے کام نمٹا سکا۔ میں اپنے آپ کو کوسنے لگتا ہوں اور کہتا ہوں ’’اللہ انسان کو صرف ایک بار موقع دیتا ہے اور میں نے وہ موقع ضائع کر دیا۔ اب تو گزرا ہوا وقت واپس نہیں آ سکتا۔ اچانک مجھے خیال آتا ہے کہ نہیں، اللہﷻ نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ شام چھ بجے قیامت قائم کر دے گا۔ اب تو رات ۸ بج رہے ہیں، تو میں زندہ کیوں ہوں؟ اور یہ دنیا بھی ویسی ہی کیوں چل رہی ہے؟ اور اللہ نے قیامت کیوں نہیں قائم کی؟

میں واپس اللہﷻ سے ملنے اُسی جگہ کی طرف چل پڑتا ہوں۔ اور دِل ہی دِل میں ڈرتا ہوں کہ اللہﷻ تو بہت ناراض ہو گا اور کہے گا ’ ’قاسم! جب میں نے تم سے کہہ دیا تھا کہ شام ۶ بجے سے پہلے اپنے سارے کام کر لینا، تو تم نے اپنے کام کیوں نہیں کیئے؟‘‘ جب میں واپس اُسی جگہ پہنچتا ہوں، تو اللہﷻ وہیں اپنے عرش پہ جلوہ افروز ہوتا ہے۔ میں اللہﷻ سے ڈرتے ڈرتے پوچھتا ہوں ’’یا اللہ! تُو نے تو شام ۶ بجے قیامت قائم کرنی تھی اور اب رات کے ۸ بج چکے ہیں، تُونے قیامت کیوں نہیں قائم کی؟‘‘ تو اللہﷻ بہت ہی پیار اور نرمی سے فرماتا ہے۔ ’’قاسم! تونے مجھے بتایا ہی نہیں کہ تونے اپنے سارے کام مکمل کر لیے ہیں یا نہیں۔ اِسی لیے میں نے قیامت نہیں قائم کی‘‘۔

اللہﷻ کی مہربانی اور نرمی دیکھ کرمیں دِل ہی دِل میں بہت خوش ہوتا ہوں کہ اللہﷻ تو بڑا مہربان ہے اور میں تو کچھ اور ہی سمجھا تھا۔ میں اللہﷻ کو اپنی ساری کہانی سناتا ہوں کہ مجھے راستے میں ایک لڑکی مل گئی تھی اور میں نے اپنا سارا وقت اُسی پہ ضائع کر دیا اور وہ لڑکی بھی مجھے نہ ملی۔ تو اللہﷻ فرماتا ہے ’’کوئی بات نہیں قاسم! میں نے قیامت کا وقت بڑھا دیا ہے۔ تم بہت تھک گئے ہو گے، ایسا کرو اب تم گھر جاؤ اور آرام کرو۔ کل صبح یا جس دن تمہارا دل چاہے اپنے سارے کام کر لینا ، اور جب تم اپنے سارے کام نمٹا چکو تو مجھے بتا دینا، میں اُس کے بعد قیامت قائم کر دوں گا۔

میں بہت خوش ہوتا ہوں کہ اللہﷻ نے مجھے اپنے کام نمٹانے کے لیے ایک اور موقع دے دیا ہے۔ میں اللہﷻ کا شکر ادا کرتا ہوں اور کہتا ہوں ’’یا اللہ، تونے مجھ پہ اتنا بڑا احسان کیا ہے، تو میں بھی آج کے بعد تیرے علاوہ کسی سے مدد نہیں مانگوں گا اور نہ کسی لڑکی کے پیچھے لگوں گا‘‘۔ میں وہاں سے گھر کی طرف نکل پڑتا ہوں۔ گھر جا کرمیں سو جاتا ہوں ، پھر صبح سات بجے اُٹھ کر نہا دھو کرنئے کپڑے پہنتا ہوں اور اپنے کام شروع کرتا ہوں، جن میں سے ایک کام اللہﷻ کے حکم سے دنیا سے اندھیرے ختم کرنا ہوتا ہے۔ میں اپنے سارے کام صبح ۱۰ یا ۱۱ بجے ہی ختم کر لیتا ہوں۔ پِھر میں اپنے آپ سے کہتا ہوں ’’اللہ نےشام ۶ بجے کے قریب قیامت قائم کرنی ہے ، اِس لیے میں شام ۵ بجے اللہ کو جا کر بتا دوں گا کہ میں نے اپنے سارے کام کر لیے ہیں، اب تُو قیامت قائم کردے‘‘۔

میں باقی وقت دنیا میں گھومتا ہوں، کھاتا پیتا ہوں، مزے کرتا ہوں۔ ہر طرف امن اور سکون ہوتا ہے اور باقی لوگ بھی مزے کرتے ہیں۔ جب شام کے ۵ بجتے ہیں تو میں اللہﷻ کے پاس جاتا ہوں۔ اللہﷻ وہیں اپنے عرش پہ جلوہ افروز ہوتا ہے۔ میں اللہﷻ سے کہتا ہوں ’’یا اللہ، میں نے اپنے سارے کام تیری مدد سے ۱۰ سے ۱۱ بجے ہی کر لیے تھے لیکن چونکہ تونے شام ۶ بجے کے قریب قیامت قائم کرنی تھی، اِس لیے میں نے سوچا کہ میں شام ۵ بجے تجھے جا کر بتا دوں گا‘‘۔تو اللہﷻ فرماتا ہے ’’ٹھیک ہے قاسم! اب میں قیامت قائم کر دوں گا‘‘۔ تو میں اللہﷻ سے پوچھتا ہوں’’یا اللہ، تونے کل شام ۶ بجے قیامت قائم کرنی تھی مگر تونے میری وجہ سے نہیں کی، تو کیا تونے لوگوں کی عُمریں بڑھا دی تھیں؟ تو اللہﷻ فرماتا ہے’’قاسم! میں نے صرف لوگوں کی عمریں ہی نہیں بڑھائیں بلکہ اُن کا رزق بھی بڑھا دیا تھا‘‘۔

میرے ساتھ حقیقی زندگی میں بھی بالکل ایسے ہی ہوا۔ ۲۰۱۳ میں میں نے یہی سوچا کہ میں نے اپنی زندگی ضائع کردی اور اب گزرا ہوا وقت واپس نہیں آ سکتا۔ مگر دسمبر ۲۰۱۳ میں اللہﷻ نے ایک خواب میں مجھ سے کہا۔ ’’قاسم! میرے پاس تیرے لیے انوکھے منصوبے ہیں۔ اب تم آرام کرو، پھر میں تمہیں بتاؤں گا کہ آگے تم نے کیا کرنا ہے‘‘۔ پِھراپریل ۲۰۱۴ میں اللہﷻ نے مجھے خواب میں کہا ’’قاسم! جو خواب میں نے تجھے دکھائے ہیں وہ لوگوں سے بیان کرو‘‘۔
~«Just Need Your Prayers»~

Post Reply