Divine Dreams – Allah and Muhammad SAWS in Qasim Dreams

Dajjal Shaitan ka Azeem Sipah Salar

Muhammad Qasim has seen Dajjal many times in his dreams. Dajjal’s height is around 6 feet 2 inches, his body is strong and he has curly hair. His skin is a bit dark and his face is scary. When he walks, it feels like no one can stand in front of him. He looks like a normal human being but he has a lot of magical powers. He claims to be a God and he has numerous magical powers to support this claim too.


ميں نے دجال کو اپنے خوابوں میں بہت بار دیکھا ہے۔ دجال کا قد تقریبا ۶ فٹ اور ۱ یا ۲ انچ ہے۔ اُس کا جسم مضبوط اور بال تھوڑے گھنگریالے ہیں۔ اُس کی جلد سیاہی مائل ہے اور چہرہ دہشتناک ہے۔ جب وہ چلتا ہے تو ایسے لگتا ہے کہ کوئی بھی اُس کے سامنے نہیں ٹک سکتا۔ مجھے وہ ایک عام انسان ہی لگتا ہے۔ مگر اُس کے پاس بیشمار جادوئی طاقتیں ہوتی ہیں۔ ایک خواب میں شیطان دجال کو اپنا ’’عظیم سپہ سالار‘‘ کہہ کر بلاتا ہے۔
جب اللہﷻ اپنی رحمت سے پوری دنیا کو امن اور انصاف سے بھر دیتا ہے۔ تو اُس کے کچھ سالوں بعد اچانک دجال ظاہر ہو جاتا ہے۔ جب دجال ظاہر ہوتا ہے تو نیک لوگ پریشان ہو جاتے ہیں۔ دجال خدائی کا دعویٰ کرتا ہے اور اُس کے پاس اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے بیشمار جادوئی طاقتیں ہوتی ہیں۔ دجال لوگوں کو ہمیشہ کی زندگی اور جوانی کا لالچ دیتا ہے اور کمزور ایمان والے لوگ بہت تیزی سے دجال کے گروہ میں شامل ہونے لگتے ہیں ۔ میں دجال کو روکنےکے لیے جاتا ہوں تو دجال مجھے کہتا ہے۔ ’’قاسم! میرے ساتھ مل جاؤ، میں تمہیں ہمیشہ کی زندگی اورجوانی عطا کروں گا۔ تو میں دجال سے کہتا ہوں ’’اِس سے کیا ہو گا؟ ایک دن تو ہم سب کو مرنا ہے۔ تم کبھی بھی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکو گے، تمہیں بھی ایک دن مرنا ہے۔ میرا اور تمہارا معبود ایک اللہ رب العالمین ہے‘‘۔ یہ سن کر دجال کو غصہ آ جاتا ہے اور اپنی شکل کو بدل کے انتہائی خوفناک کر لیتا ہے۔ اُسے دیکھ کر میرا جسم کانپنا شروع ہو کر دیتا ہے اور مجھے مزید کچھ بولنے کی ہمت نہیں پڑتی۔ دجال مجھ سے کہتا ہے۔ ’’قاسم! اگر تم میرے لشکر میں شامل نہیں ہوگے، تو میں تمہیں قتل کر دوں گا۔ گھر جا کر اچھی طرح سوچ لو کہ تم نے کون سا راستہ اختیارکرنا ہے‘‘۔
پِھر میں مسلمانوں میں واپس آتا ہوں اور اُن سے کہتا ہوں کہ ’’جو کوئی بھی دجال کے سامنے گیا تو ۹.۹۹ فیصد امکان ہے کہ وہ دجال سے مل جائے گا۔ دجال ایک بہت بڑا فتنہ ہے اور جس پہ اللہﷻ کی خاص رحمت ہو گی، وہی دجال کے فتنہ سے بچ سکتا ہے۔ مسلمانو! دجال کے ساتھ ملنے سے بہتر ہے کہ ہم بحثیت مسلمان مریں۔ آؤ ،دجال سے لڑتے ہوئے اللہﷻ کی راہ میں مریں‘‘۔ سب مسلمان میری بات سے اتفاق کرتے ہیں۔
پِھر ہم دجال سے بہت بڑی جنگ کرتے ہیں۔ اللہ کا نُور میری شہادت انگلی پہ ظاہر ہوتا ہے اور میں دجال کو اللہ کے نُور سے مشغول کرتا ہوں تاکہ وہ اپنی جادوئی طاقتیں مسلمانوں کی فوج پر نہ استعمال کر سکے۔ مسلمانوں کی فوج دجال کی فوج سے لڑائی کرتی ہے اور میں دجال کے ساتھ لڑائی کرتا ہوں تاکہ مسلمان فوج دجالی فوج کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچا سکے۔ میں اللہﷻ کے نُور کی وجہ سے دجال کو بہت دیر تک مشغول رکھتا ہوں۔ مگر دجال بہت طاقتور ہوتا ہے۔ دجال سے لڑتے لڑتے اچانک اللہ کا نُور میری شہادت انگلی سے غائب ہو جاتا ہے۔ میں کہتا ہوں ’’قاسم! یہاں سے بھاگ‘‘۔ میں وہاں سے بھاگتا ہوں اور دجال میرا پیچھا کرتا ہے۔ میں اللہ کی رحمت سے ہوا میں بھاگنا شروع کر دیتا ہوں اور دجال مجھے دیکھ کر کہتا ہے ’’قاسم! بھاگ جتنا بھاگ سکتا ہے، میں آج تجھے زندہ نہیں چھوڑوں گا‘‘۔ میں بھاگتے بھاگتے ایک پہاڑی علاقے میں پہنچ جاتا ہوں مگر دجال بھی میرے پیچھے اپنی طاقت کا استعمال کر کے پہنچ جاتا ہے۔ دجال میری کمر پہ پیچھے سے وار کرتا ہے اور میں زخمی ہو کر وہیں گر جاتا ہوں۔ جدھر میں گرتا ہوں وہاں ایک بڑا پتھر پڑا ہوتا ہے، وہ کھل جاتا ہے اور مجھے کہتا ہے ’’قاسم! میرے اندر چھپ جاؤ، میں تمہیں دجال سے بچا لوں گا‘‘۔ میں دِل میں کہتا ہوں کہ میں اللہ ﷻ کے سوا کسی سے پناہ نہیں مانگوں گا ۔ میں اُس پتھر سے پناہ لینے سے انکار کر دیتا ہوں۔ ساتھ ہی دجال میرے قریب پہنچ جاتا ہے اور کہتا ہے ’’قاسم! مرنے کے لیے تیار ہو جاؤ‘‘۔ وہ مجھے قتل کرنے کا ارادہ کرتا ہے۔ اِسی دوران میں اللہ کو پکارتا ہوں ’’ یا اللہ میری مدد کر‘‘۔ اچانک لفظ اللہ نُور سے بھرا ہوا آسمان سے اُترتا ہے۔ پِھر اللہﷻ ساتھ والے پہاڑ پر بجلی پھینکتا ہے اور ایک خوفناک قسِم کی آواز آتی ہے۔ پہاڑ کالا سیاہ ہو کر ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے اور دجال وہیں بیہوش ہو کر گر پڑتا ہے۔ پِھر اللہﷻ اپنے فضل سے میرا زخم ٹھیک کر دیتا ہے اور مجھ سے کہتا ہے ’’قاسم! دجال صرف ۴ گھنٹوں کے لیے بیہوش ہوا ہے، اس کے بعد یہ ہوش میں آ جائےگا۔ تم یہاں سے بھاگ جاؤ اور کہیں چھپ جاؤ۔ اور جب تک میں نہ کہوں، تم دجال کے سامنے نہ آنا۔ میں کہتا ہوں ’’جیسے تیرا حکم‘‘ ۔ میں اللہ کا شکرادا کرتا ہوں اور پِھر وہاں سے بھاگ جاتا ہوں۔
جب دجال ہوش میں آتا ہے تو اُسے کچھ یاد نہیں رہتا کہ اُس کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ وہ یہی سمجھتا ہے کہ اُس نے مجھے قتل کر دیا ہے۔ دجال واپس آ کرمسلمانوں کو بتاتا ہے کہ اُس نے مجھے قتل کر دیا ہے۔ یہ سن کر مسلمان کمزور پڑ جاتے ہیں۔ اور دجال اپنا مشن بغیر کسی رکاوٹ کے بہت تیزی سے شروع کر دیتا ہے۔ مسلمانوں کے حوصلے میری موت کی خبر سن کر پست ہو جاتے ہیں۔

Leave a Reply

en_US